بھٹکل:23؍ فروری (ایس اؤ نیوز)محکمہ تعلیم اور محکمہ پولس ہائی کورٹ کے عبوری حکم کا غلط مفہوم لیتے ہوئے تعلیمی اداروں پر دباؤ ڈال کر باحجاب طالبات کو حجاب نکالنےپر مجبور کئےجانے سے تعلیمی اداروں میں پیچیدگی پیدا ہورہی ہے ۔ اس سلسلے میں عزت مآب ریاستی گورنرمداخلت کرتےہوئے متعلقہ محکمہ جات کے افسران کو ہائی کورٹ کے حکم کو صحیح پس منظر سمجھ کر کارروائی کرنےکا مطالبہ لے کر ایس ایس ایف اترکنڑا ڈسٹرکٹ کمیٹی نے تحصیلدار کی معرفت ریاستی گورنر کومیمورنڈم سونپا۔
میمورنڈم میں ہائی کورٹ کے عبوری حکم کی نقل درج کرتےہوئے بتایا گیا ہے کہ عبوری حکم میں حتمی فیصلہ ہونے تک کیسری شال اور حجاب نہ پہننے کہاگیا ہے اور جن کالجوں میں سی ڈی سی کے ذریعےیونیفارم لازمی کیاگیا ہے انہی کالجوں پر اطلاق ہوگا۔ ہائی کورٹ کا عبوری حکم طلبا کے یونیفارم کی حدتک ہے۔ لیکن عبوری حکم کا غلط مفہوم لیتےہوئے محکمہ تعلیمات پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھی نفاذ کا حکم دیا ہے۔ جب کہ جن کالجوں میں سی ڈی سی ہے وہیں یہ حکم کے اطلاق ہونے کی بات عبوری حکم میں دی گئی ہے۔
میمورنڈم میں تحریر کیاگیا ہےکہ اس کے علاوہ ریاستی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر اشوتھ نارائن نے واضح طورپر کہا ہے کہ یہ حکم ڈگری کالجوں پر اطلاق نہیں ہوتا ۔ لیکن عبوری حکم کے بہانے چند مفاد پرست قوتیں ہر جگہ نافذ کرنے محکمہ تعلیم پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ پولس افسران بھی اپنے یونیفارم میں ہی اسکولوں اورکالجوں کو پہنچ کر دستوری حقوق کی خلاف ورزی کرتےہوئے طالبات اور عملے کو حجاب نکالنے کی ہدایات دینے کی اطلاعات ہم تک پہنچی ہیں۔ ہم عزت مآب ریاستی گورنر سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں توافسران کو ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے متعلق سمجھائیں۔ اور طالبات اور عملے کو زور زبردستی حجاب نکالنے پر مجبور نہ کرنے بولنے کی ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں۔ تحصیلدار نے میمورنڈم وصول کیا ۔ اس موقع پر عارف اسدی، عبدالعلیم گوائی ، منیر شیخ ،روڈا ادریس سمیت کئی ایس ایس ایف کےکارکنان موجود تھے۔